Stikkord » Qur'an

[البقرہ 2:74] ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالۡحِجَارَةِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةً ‌ ؕ وَاِنَّ مِنَ الۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُ‌ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

ثُمَّ قَسَتۡ قُلُوۡبُكُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ فَهِىَ كَالۡحِجَارَةِ اَوۡ اَشَدُّ قَسۡوَةً ‌ ؕ وَاِنَّ مِنَ الۡحِجَارَةِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنۡهُ الۡاَنۡهٰرُ‌ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخۡرُجُ مِنۡهُ الۡمَآءُ‌ؕ وَاِنَّ مِنۡهَا لَمَا يَهۡبِطُ مِنۡ خَشۡيَةِ اللّٰهِ‌ؕ وَمَا اللّٰهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعۡمَلُوۡنَ

پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے سو وہ پتھروں کی طرح بلکہ ان سے بھی زیادہ سخت ہیں ‘ اور بیشک بعض پتھروں سے دریا پھوٹ پڑتے ہیں ‘ اور بیشک بعض پتھر پھٹتے ہیں تو ان سے پانی نکل آتا ہے ‘ اور بیشک بعض پتھر اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے کاموں سے غافل نہیں ہے

Home, ہوم

[البقرہ 2:73]فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡهُ بِبَعۡضِهَا ‌ؕ كَذٰلِكَ يُحۡىِ اللّٰهُ الۡمَوۡتٰى ۙ وَيُرِيۡکُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَقُلۡنَا اضۡرِبُوۡهُ بِبَعۡضِهَا ‌ؕ كَذٰلِكَ يُحۡىِ اللّٰهُ الۡمَوۡتٰى ۙ وَيُرِيۡکُمۡ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمۡ تَعۡقِلُوۡنَ

سو ہم نے کہا : اس گائے کے ایک ٹکڑے کو اس مقتول پر مارو ‘ اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ فرمائے گا اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو

Home, ہوم

[البقرہ 2:72]وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِيۡهَا ‌ؕ وَاللّٰهُ مُخۡرِجٌ مَّا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَۚ

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَ اِذۡ قَتَلۡتُمۡ نَفۡسًا فَادّٰرَءۡتُمۡ فِيۡهَا ‌ؕ وَاللّٰهُ مُخۡرِجٌ مَّا كُنۡتُمۡ تَكۡتُمُوۡنَۚ

اور یاد جب تم نے ایک شخص کو قتل کیا تھا ‘ پھر تم ایک دوسرے کو اس قتل میں ملوث کرنے لگے اور اللہ تعالیٰ اس چیز کو ظاہر کرنے والا تھا جس کو تم چھپاتے تھے

گائے کا ایک عضو مقتول پر مارنے سے اس کا زندہ ہونا :
ان آیات میں بھی اسی قصہ کو بیان فرمایا ہے جس واقعہ کا اس سے پہلی آیات میں ذکر تھا ‘ اس کا تحقق پہلے ہوا تھا اور اس کا ذکر بعد میں کیا گیا ہے تاکہ بنو اسرائیل کو ان کی خود سری ‘ ہٹ دھرمی اور شقاوت پر دوبارہ سرزنش کی جائے ‘ اگر یہ سوال کیا جائے کہ قتل تو ایک شخص نے کیا تھا اور اس آیت میں تمام بنوا سرائیل کی طرف اس کا اسناد کیا گیا ہے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ عرب کا اسلوب ہے کہ قبیلہ کے ایک فرد نے فعل کیا ہو تو پورے قبیلہ کی طرف اس کی نسبت کردیتے ہیں ‘ بنو اسرائیل قاتل کو مخفی رکھنا چاہتے تھے اور اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کرنا چاہتا تھا ‘ اس لیے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ایک گائے ذبح کرو جس کی تفصیل اس سے پہلی آیات میں ذکر کی جا چکی ہے ‘ اور فرمایا : اس گائے کے کسی عضو کو اسی مقتول پر مارو ‘ اس عضو میں مختلف اقوال ہیں مثلا زبان ‘ دم ‘ کان ‘ ہڈی اور دل وغیرہ ‘ جب گائے کے عضو کو مقتول پر مارا گیا تو اس کی رگوں سے خون بہنے لگا اور اس نے کہا : مجھے میرے بھتیجے نے قتل کیا ہے۔
گائے ذبح کرا کر مقتول کو زندہ کرنے کی حکمت :
رہا یہ سوال کہ اس متقول کو اس طرح کیوں زندہ کیا گیا ؟ اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے ویسے ہی زندہ فرما دیتا ‘ آخر اس سے پہلے بھی تو ستر اسرائیلیوں کو زندہ فرمایا تھا ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ مقتول کو زندہ کرنے کے سلسلہ میں مشقت کا کچھ بار اللہ تعالیٰ بنو اسرائیل پر ڈالنا چاہتا تھا ‘ اور ان کی کجی بحثی اور حیلہ جوئی کو دکھانا چاہتا تھا اور اس ذریعہ سے ایک صالح اور ماں باپ کے فرمانبردار لڑکے کو فائدہ پہنچانا چاہتا تھا ‘ اور یہ بتلانا چاہتا تھا کہ کسی چیز کو طلب کرنے سے پہلے کسی عبادت سے تقرب حاصل کرنا مستحسن ہے اور حصول ثواب کا ذریعہ ہے ‘ نیز ان کے سوالات کرنے کی وجہ سے گائے میں قیودات لگا کرسکتی کی گئی تاکہ دوسروں کو عبرت ہو کہ اللہ کے حکم پر حیل وحجت کے بغیر عمل کرنا چاہیے اور یہ کہ اللہ کے حکم سے جو جانور ذبح کیا جائے وہ بہت قیمتی ‘ صحیح سالم ‘ بےداغ اور حسین و جمیل ہونا چاہیے اور اس میں فقہی مسئلہ یہ ہے کہ قاتل مقتول کا وارث نہیں ہوتا ‘ لیکن اگر عادل نے باغی کو قتل کیا یا کسی حملہ آور کو مدافعت میں قتل کیا تو وہ اس قاعدہ سے مستثنی ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو (قیامت کے دن) زندہ فرمائیگا ہرچند کہ یہ آیت بنو اسرائیل سے خطاب کے سلسلہ میں ہے لیکن اس میں ان لوگوں کی تعریض ہے جو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں مر کر دوبارہ اٹھنے کا انکار کرتے تھے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے۔ (البقرہ : ٧٤)
اس میں مردہ کو زندہ کرنے کی طرف اشارہ ہے یا اس کے کلام کرنے کی طرف اشارہ ہے یا اس سے پہلے جن نشانیوں کا ذکر ہوا ان کی طرف اشارہ ہے ‘ یعنی پتھر سے پانی کے چشموں کا جاری کرنا ‘ ان پر پہاڑ معلق کردینا ‘ یا ہفتہ کے دن شکار کرنے والون کو بندر اور خنزیر بنادینا۔ ان نشانیوں کو دیکھنے کے بعد ان کے دل سختی کا یہ عالم تھا کہ جب مقتول نے زندہ ہو کر بتایا کہ فلاں شخص اس کا قاتل ہے تو انہوں نے کہا : یہ جھوٹ ہے۔ علاوہ ازیں ان نشانیوں کے دیکھنے کے باوجود اپنی ہٹ دھرمی اور نافرمانیوں سے باز نہیں آئے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور بیشک بعض پتھروں سے دریا پھوٹ پڑتے ہیں ‘ اور بیشک بعض پتھر پھٹتے ہیں تو ان سے پانی نکل آتا ہے اور بیشک بعض پتھر اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔ (البقرہ : ٧٤)
پتھروں ‘ درختوں اور جانوروں کا ادراک اور ان کا آپ کی رسالت کی گواہی دینا :
اس آیت میں اثر پذیری کے اعتبار سے پتھروں کی تین قسمیں بتائیں ہیں ‘ ایک قسم وہ ہے جس سے دریا پھوٹ پڑتے ہیں ‘ ان میں سب سے زیادہ اثر پذیری ہے ‘ دوسری قسم میں اس سے کم اثر پذیری ہے جن سے پانی نکل آتا ہے اور سب سے کم اثر پذیری ان پتھروں میں ہے جو خوف خدا سے گرپڑتے ہیں : بنو اسرائیل میں اتنی اثر پذیری بھی نہیں ہے، اس آیت سے یہ بھی معلوم ہوا کہ پتھروں میں بھی ادراک ہوتا ہے جس کی وجہ سے ان میں خدا کا خوف ہوتا ہے۔ قرآن مجید کی دوسری آیات میں بھی اس پر دلالت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے پتھروں اور پہاڑوں میں ایک قسم کا ادراک پیدا کیا ہے :
(آیت) ” لوانزلنا ھذا القران علی جبل الرایتہ خاشعا متصدعا من خشیۃ اللہ : (الحشر : ٢١)
ترجمہ : اگر ہم اس قرآن کو پہاڑ پر نازل کرتے تو تم ضرور اس کو جھکتا ہوا اور اللہ کے خوف سے پھٹتا ہوا دیکھتے۔
(آیت) ” یجبال اوبی معہ والطیر “۔ (سبا : ١٠)
ترجمہ : اے پہاڑو اور پرندو ! تم داؤد کے ساتھ تسبیح کرو۔
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) اور حضرت انس (رض) روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے احد پہاڑ کے متعلق فرمایا : احد پہاڑ ہم سے محبت کرتا ہے ہم اس سے محبت کرتے ہیں۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ٢٠١۔ ٢٠٠ ج ٢ ص ٥٨٥۔ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام مسلم (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت جابر بن سمرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں مکہ میں ایک پتھر کو پہچانتا ہوں جو اعلان نبوت سے پہلے مجھ پر سلام عرض کرتا تھا ‘ میں اب بھی اس کو پہچانتا ہوں۔ (صحیح مسلم ج ٢ ص ‘ ٢٤٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٧٥ ھ)
اس حدیث کو امام طبرانی (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (معجم صغیر ج ١ ص ٦٢‘ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ ‘ ١٣٨٨ ھ)
امام طبرانی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عباس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حجراسود اور رکن یمانی کو اس حال میں اٹھائے گا کہ ان کی دو آنکھیں ‘ زبان اور دو ہونٹ ہوں گے ‘ اور جس نے ان کی پوری تعظیم کی وہ اس کے حق میں گواہی دیں گے۔ (معجم کبیر ج ١١ ص ١٤٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)
حافظ الہیثمی (رح) بیان کرتے ہیں :
حضرت ابوذر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سات یا نو کنکریاں اپنے ہاتھ میں لیں تو وہ تسبیح کرنے لگیں ‘ شہد کی مکھیوں کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کی آواز سنائی دیتی تھی ‘ الحدیث۔ اس حدیث کو امام بزار نے دو سندوں کے ساتھ روایت کیا ہے اور ایک سند کے روای ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ‘ ٢٩٩ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب مجھ پر وحی کی گئی تو میں جس پتھر یا درخت کے پاس سے گزرتا تھا وہ کہتا تھا : السلام علیک یا رسول اللہ ! اس حدیث کو امام بزار نے سند ضعیف کے ساتھ روایت کیا۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ‘ ٢٦٠۔ ٢٥٩ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ باہر نکلا ‘ آپ جس پتھر یا درخت کے پاس سے گزرتے تھے وہ آپ کو سلام عرض کرتا تھا، حافظ الہیثمی (رح) نے کہا : اس حدث کو امام طبرانی (رح) نے ” معجم اوسط “ میں روایت کیا ہے اس کی سند میں ایک روای کا مجھے علم نہیں ‘ باقی راوی ثقہ ہیں۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ‘ ٢٦٠ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
امام ترمذی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت علی (رض) بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مکہ کے کسی راستہ میں جارہا تھا کہ آپ کے سامنے جو بھی پہاڑ یا درخت آتا وہ کہتا : السلام علیک یا رسول اللہ ! (جامع ترمذی ص ‘ ٥٢٢ مطبوعہ نور محمد کارخانہ تجارت کتب ‘ کراچی)
ان حدیثوں سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ نے پتھروں کے علاوہ درختوں میں بھی ادراک پیدا کیا ہے۔
امام بخاری (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے منبر بنا کر لایا گیا تو جس کھجور کے ستون کے ساتھ آپ ٹیک لگا کر کھڑے ہوتے تھے وہ اس طرح چیخ مار کر رو رہا تھا جیسے اونٹنی اپنے بچے کے فراق میں روتی ہے۔ (صحیح بخاری ج ١ ص ‘ ١٢٥ مطبوعہ نور محمد اصح المطابع ‘ کراچی ‘ ١٣٨١ ھ)
امام طبرانی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں تھے۔ سامنے سے ایک اعرابی آرہا تھا ‘ جب وہ قریب آیا تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس سے پوچھا : تم کہاں جا رہے ہو ؟ اس نے کہا : اپنے اہل کے پاس : آپ نے فرمایا : کیا تم کوئی خیر حاصل کرو گے ؟ اس نے پوچھا : وہ کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تم یہ گواہی دو کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ وحدہ لاشریک ہے اور محمد اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں ‘ اس نے کہا : آپ کے اس قول پر کون گواہ ہے ؟ آپ نے فرمایا : یہ درخت ‘ وہ درخت وادی کے کنارے تھا ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس درخت کو بلایا تو وہ زمین کو پھاڑتا ہوا نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے کھڑا ہوگیا ‘ آپ نے اس سے تین مرتبہ اپنی رسالت پر شہادت طلب کی اور اس نے اسی طرح شہادت دی جس طرح آپ نے کلمہ شہادت پڑھا تھا ‘ پھر وہ درخت اپنی جگہ واپس چلا گیا۔ وہ اعرابی اپنی قوم کی طرف چلا گیا اور اس نے کہا : اگر قوم نے میری بات مان لی تو میں ان کو لے کر آؤں گا ورنہ خود حاضر ہوں گا۔ (معجم کبیر ج ١٢ ص ‘ ٢٣٠ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)
اس حدیث کو امام ابویعلی (رح) نے بھی روایت کیا ہے۔ (مسند ابویعلی ج ٥ ص ٢٥٨‘ مطبوعہ دارالمامون تراث ‘ بیروت ‘ ١٤٠٤ ھ)
حافظ الہیثمی (رح) لکھتے ہیں : اس حدیث کو امام بزار نے بھی روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ٢٩٢‘ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
جانوروں کو بھی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی نبوت کا ادراک تھا ‘ امام طبرانی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت عمر بن الخطاب (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنے اصحاب کے ساتھ ایک محفل میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اتنے میں بنو سلیم کا ایک اعرابی آیا : اس نے ایک گوہ شکار کرکے اپنی آستین میں رکھی ہوئی تھی ‘ اس نے جب یہ جماعت دیکھی تو لوگوں سے پوچھا : اس جماعت کا امیر کون ہے ؟ لوگوں نے بتایا : وہ شخص ہیں جو خود کو نبی گمان کرتے ہیں وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آکر کہنے لگا : اے محمد ! (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تم سے بڑھ کر جھوٹا کوئی نہیں ہے اور میرے نزدیک تم سے بڑھ کر مبغوض کوئی نہیں ہے اور اگر مجھے یہ خیال نہ ہوتا کہ میری قوم مجھ کو جلد باز کہے گی تو میں تم کو قتل کردیتا اور اس پر سب لوگ خوش ہوتے ‘ حضرت عمر (رض) نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھ کو اجازت دیں میں اس کو قتل کردوں ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم کو معلوم نہیں کہ نبی بردبار ہوتا ہے ! اس اعرابی نے کہا : اگر یہ گوہ آپ پر ایمان لے آئے تو لات اور عزی کی قسم ! میں آپ پر ایمان لے آؤں گا اور اس نے آستین سے گوہ نکال کر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے پھینک دی ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گوہ سے کہا : اے گوہ ! اس نے فصح عربی میں کہا : اے رب العلمین کے رسول ! لبیک میں حاضر ہوں ‘ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کس کی عبادت کی جاتی ہے ؟ اس نے کہا : جس کا آسمان میں عرش ہے اور زمین میں اس کی سلطنت ہے ‘ سمندر میں جس کی سبیل ہے، جنت میں جس کی رحمت ہے اور دوزخ میں جس کا عذاب ہے ‘ آپ نے فرمایا : اے گوہ ! میں کون ہوں ؟ اس نے کہا : آپ رب العلمین کے رسول ہیں اور خاتم النبیین ہیں ‘ جس نے کی آپ تصدیق کی وہ کامیاب ہے اور جس نے آپ کی تکذیب کی وہ ناکام ہے ‘ پھر اس اعرابی نے کہا : میں گواہی دیتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے برحق رسول ہیں ‘ بیشک جس وقت میں آیا تھا تو میرے نزدیک آپ سے بڑھ کر مبغوض کوئی نہیں تھا اور اب میرے نزدیک آپ سے بڑھ کر کوئی محبوب نہیں ہے۔ (معجم صغیر ج ٢ ص ٦٥۔ ٦٤ مطبوعہ مکتبہ سلفیہ مدینہ منورہ ‘ ١٣٨٨ ھ)
حافظ الہیثمی (رح) لکھتے ہیں :
محمد بن علی بن ولید بصری کے علاوہ اس کی سند کے باقی راوی صحیح ہیں ‘ اس حدیث کا مدار اسی پر ہے۔ (مجمع الزوائد ج ٨ ص ‘ ٢٩٤ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)
امام طبرانی (رح) روایت کرتے ہیں :
حضرت ام سلمہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صحراء میں تھے کہ کسی آواز دینے والے نے آواز دی : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے مڑ کر دیکھا تو کوئی نظر نہیں آیا ‘ آپ پھر متوجہ ہوئے تو ایک ہرنی بندھی ہوئی تھی ‘ اس نے کہا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! میرے قریب آئیں ‘ آپ اس کے قریب گئے اور فرمایا : تمہیں کیا کام ہے ؟ اس نے کہا : اس پہاڑ میں میرے دو بچے ہیں ‘ آپ مجھے کھو دیں تاکہ میں جاکر انہیں دودھ پلا آؤں پھر میں آپ کے پاس واپس آجاؤں گی ‘ آپ نے فرمایا : تم ایسا کرو گی ؟ اس نے کہا : اگر میں ایسا نہ کروں تو اللہ مجھے اس اونٹنی کے عذاب میں مبتلا کرے جس کے بچے گم ہوگئے ہوں ‘ آپ نے اس کو کھول دیا ‘ وہ گئی جا کر اس نے اپنے بچوں کو دودھ پلایا ‘ پھر واپس آگئی اور آپ نے اس کو باندھ دیا ‘ اعرابی بیدار ہوا تو اس نے پوچھا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ کو کوئی کام ہے ؟ آپ نے فرمایا : ہاں ! اس ہرنی کو کھول دو ‘ وہ چھلانگیں لگاتی ہوئی گئی اور کہہ رہی تھی : میں گواہی دیتی ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور بیشک آپ اللہ کے رسول ہیں۔ (معجم کبیر ج ٢٣ ص ‘ ٣٣٢ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی ‘ بیروت)
حافظ الہیثمی (رح) نے لکھا ہے اس حدیث کی سند میں ایک ضعیف راوی ہے (مجمع الزوائد ج ٨ ص ‘ ٢٩٥ مطبوعہ دارالکتاب العربی ‘ بیروت ‘ ١٤٠٢ ھ)

Home, ہوم

Muslims from around the world on pilgrimage to Mecca ahead of hajj

As the birthplace of Muhammad, and the site of Muhammad’s first revelation of the Quran (specifically, a cave 3 km (2 mi) from Mecca), Mecca is regarded as the 
712 ord igjen

Human Rights

UK Saker Community members: Sheikh Imran Hosein will be lecturing in the UK in Aug/Sept!

August 17, 2018

Dear friends,

My dear friend Sheikh Imran Hosein will be lecturing in various cities across the UK (including Scotland!) in August and September.  336 ord igjen

The Saker

যে নবীর নাম স্বয়ং আল্লাহ রেখেছেন,ইয়াহিয়া (আঃ)

কানিজ ফাতেমা

আমাদের দেশে ইয়াহিয়া নামটার খুব কুখ্যাতি থাকলেও আল কোরানে এটি একটি সম্মানিত নাম।স্বয়ং আল্লাহ রব্বুল আলামীন এই নাম রাখেন আর এটি এমন এক নাম যা এর পূর্বে কেউ কখনো শুনেনি,রাখাতো দূরের কথা।যাকারিয়া (আঃ) যখন মরিয়ম (আঃ)কে তাঁর কক্ষে দেখতে যেতেন তখন তিনি দেখতে পেতেন সেই ঘর খাবার দাবার আর এমন ফলফলাদিতে ভর্তি যা সেই মৌসুমে পাওয়া যেত না,তিনি অবাক হয়ে জিজ্ঞেস করতেন ,মরিয়ম,এসব কোথা থেকে?মরিয়ম বলতেন, ‘এসব আল্লাহর থেকে আসে,আল্লাহ যাকে ইচ্ছা বেহিসাব রিযিক দান করেন’

Resurrection

The word «Resurrection» or «Noshoran»  occurs total of 9 times in the Quran with the following values:

«Resurrection» – 365:203 465/36660/111 Total: 37804

21:21 «Or have men taken for themselves gods from the earth who resurrect (the dead)» 28/3574/7 {3651} 865 ord igjen

Islam